میں نے قدر نہیں کی زندگی میں

کبھی کبھی انسان اپنی زندگی میں موجود نعمتوں کی قدر اُس وقت سمجھتا ہے جب وہ اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہوتی ہیں۔ وقت گزر جاتا ہے، لوگ دور ہو جاتے ہیں، رشتے بدل جاتے ہیں اور کچھ مواقع دوبارہ کبھی واپس نہیں آتے۔ پھر انسان تنہائی میں بیٹھ کر صرف یہی سوچتا رہ جاتا ہے:

"میں نے قدر نہیں کی زندگی میں۔"

میں نے اُن لمحوں کی قدر نہیں کی جو میرے پاس تھے۔
میں نے اُن لوگوں کی قدر نہیں کی جو میرے لیے دعائیں کرتے تھے۔
میں نے اُن رشتوں کی قدر نہیں کی جو ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے رہے۔
میں نے صحت کو معمولی سمجھا، وقت کو بے قیمت سمجھا اور زندگی کو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز سمجھ لیا۔

مجھے لگتا رہا کہ کل میرے پاس دوبارہ وقت ہوگا۔
کل میں اپنوں کے ساتھ بیٹھوں گا۔
کل ماں سے بات کر لوں گا۔
کل باپ کے پاس بیٹھوں گا۔
کل دوست کو فون کر لوں گا۔
کل اپنی غلطی پر معافی مانگ لوں گا۔

مگر زندگی نے مجھے سکھایا کہ ہر "کل" ہمارے نصیب میں نہیں ہوتا۔

کچھ لوگ ہماری زندگی میں صرف اس لیے آتے ہیں کہ ہمیں محبت، خلوص اور وفا کا مطلب سمجھا سکیں۔ لیکن ہم اکثر اُن کی موجودگی کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں۔ اُن کی خاموشی کو برداشت، اُن کی محبت کو کمزوری اور اُن کی موجودگی کو ہمیشہ کے لیے یقینی سمجھ لیتے ہیں۔

پھر ایک دن وہ شخص ہمارے درمیان نہیں ہوتا۔

فون کی اسکرین پر اُس کا نام موجود ہوتا ہے، مگر فون کرنے والا نہیں ہوتا۔
گھر وہی ہوتا ہے، مگر اُس گھر کی رونق بدل چکی ہوتی ہے۔
وہ کرسی وہیں ہوتی ہے، مگر اُس پر بیٹھنے والا نہیں ہوتا۔

تب دل سے ایک آواز نکلتی ہے:

"کاش! میں نے اُس وقت قدر کی ہوتی۔"

ہم دولت کے پیچھے بھاگتے رہے، جبکہ اصل دولت ہمارے گھر میں موجود تھی۔ ہم کامیابی حاصل کرنے کی فکر میں اتنے مصروف رہے کہ اپنے پیاروں کے چہروں پر لکھی محبت پڑھنا ہی بھول گئے۔ ہم نے دنیا کو خوش کرنے کی کوشش کی، مگر اُن لوگوں کو وقت نہ دیا جنہیں ہماری صرف چند لمحوں کی توجہ چاہیے تھی۔

ہم یہ بھی بھول گئے کہ زندگی صرف بڑی کامیابیوں کا نام نہیں۔

زندگی ایک کپ چائے کے ساتھ ماں کی بات سننے کا نام بھی ہے۔
زندگی باپ کے ساتھ چند لمحے بیٹھنے کا نام بھی ہے۔
زندگی بچوں کی معصوم باتوں پر مسکرانے کا نام بھی ہے۔
زندگی کسی پریشان دوست کا ہاتھ تھامنے کا نام بھی ہے۔
زندگی کسی ناراض شخص کو منانے کا نام بھی ہے۔

لیکن افسوس، انسان اکثر اُس وقت جاگتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ جوانی واپس نہیں آتی۔ گزرے ہوئے دن دوبارہ نہیں ملتے اور بچھڑے ہوئے لوگ ہمیشہ واپس نہیں آتے۔

اس لیے اگر آج آپ کے پاس کوئی اپنا موجود ہے تو اُس کی قدر کریں۔
اگر ماں باپ موجود ہیں تو اُن کے ساتھ وقت گزاریں۔
اگر بہن بھائی موجود ہیں تو اُن سے محبت سے بات کریں۔
اگر دوست موجود ہیں تو اُن کا حال پوچھیں۔
اگر کوئی آپ سے ناراض ہے تو انا کو ایک طرف رکھ کر اُسے منا لیں۔

کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے۔

ہمیں معلوم نہیں کہ ہماری زندگی کا آخری دن کون سا ہے، آخری ملاقات کب ہوگی اور آخری بار "اللہ حافظ" کس سے کہیں گے۔

اس لیے محبت کو کل پر نہ چھوڑیں۔
معافی کو کل پر نہ چھوڑیں۔
اپنوں کے لیے وقت کو کل پر نہ چھوڑیں۔
اچھے کام کو کل پر نہ چھوڑیں۔

آج جو نعمت آپ کے پاس ہے، ممکن ہے کل وہ صرف ایک یاد بن جائے۔

اور پھر شاید آپ کے پاس الفاظ تو ہوں گے، مگر سننے والا نہیں ہوگا۔
آنکھوں میں آنسو تو ہوں گے، مگر سامنے وہ چہرہ نہیں ہوگا۔
دل میں محبت تو ہوگی، مگر اظہار کا موقع نہیں ہوگا۔

تب انسان صرف یہی کہے گا:

"میں نے قدر نہیں کی زندگی میں..."

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگی، اپنے وقت، اپنی صحت، اپنے والدین، اپنے رشتوں، اپنے دوستوں اور اپنی تمام نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اور جب ہمارے پاس کسی کو محبت دینے، کسی کا دل رکھنے، کسی کی مدد کرنے یا کسی سے معافی مانگنے کا موقع ہو تو ہمیں یہ موقع ضائع نہ کرنے دے۔

کیونکہ زندگی دوبارہ ملے یا نہ ملے، مگر گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔